Player خرابی_مل_گئی
Emotion
بیٹی نے میرے لیے ایک تصویر بنائی جس میں میں فون پکڑے بیٹھی ہوں اور فون کے اندر کرکٹ چل رہی ہے۔ نیچے اس نے امی کا آفس لکھا تھا۔ اچھا لگا، پہلے ہنسی آئی کہ اتنا آسان کام لگتا ہے اسے۔ پھر اس نے پوچھا تصویر دفتر لے جائیں گی؟ میں نے کہا ہاں، اور صبح خراب نہ ہو اس لیے اسے فائل میں رکھ دیا۔ وہ بار بار دیکھ رہی تھی کہ واقعی رکھی ہے یا نہیں۔ دفتر میں میز پر جگہ بنائی تو ایک ٹیسٹر نے پوچھا یہ آپ ہیں؟ میں نے کہا جی۔ تصویر میں میرے بال اصل سے زیادہ اچھے بنے ہیں۔ بیٹی کو شام کو یہ بات بتائی تو وہ بہت خوش ہوئی۔
Mind
اس بار بریانی کا چاول معمول سے نرم ہوا، مقدار وہی تھی اس لیے پہلے سمجھ نہیں آیا۔ امی کو بتایا تو انہوں نے پوچھا بھگونے کا وقت کتنا تھا۔ وقت دیکھا ہی نہیں تھا، درمیان میں بیٹی کا ہوم ورک لے کر بیٹھ گئی تھی۔ اب یاد کر رہی ہوں کہ چاول کس کام سے پہلے رکھے تھے۔ ہر چیز خراب نہیں ہوئی، شوہر نے دوسری بار بھی لیا، لیکن مجھے فرق محسوس ہو رہا تھا۔ اگلی بار پیکٹ اور وقت دونوں لکھوں گی۔ آفس میں bug دوبارہ چلانے کے لیے قدم لکھتی ہوں، گھر میں کہہ دیتی ہوں حسب معمول کیا تھا۔ حسب معمول میں کتنا وقت آیا، یہی معلوم نہیں۔
Body
آج کیب میں فون بیگ میں ہی رکھا۔ باہر دیکھتے ہوئے متلی نہیں ہوئی، بس سگنل پر رکنے سے دھوپ سیدھی چہرے پر آ رہی تھی۔ کھڑکی کی طرف سے ہٹ کر بیٹھی تو کندھا بھی سیٹ پر ٹھیک سے لگ گیا۔ عام طور پر گھر کی چیزوں کی فہرست بناتی رہتی ہوں اور گردن نیچے رہتی ہے۔ آج گھر پہنچ کر وہ کھنچاؤ کم تھا۔ بیٹی نے دروازے پر اپنا بستہ پکڑا دیا، میں نے کہا پہلے مجھے جوتے اتارنے دو۔ پانی پیا تو معلوم ہوا کافی پیاس لگی تھی۔ دفتر میں بوتل آدھی رہ گئی تھی، یاد ہی نہیں رہا۔ شام کی چائے بھی بیٹھ کر پی، کپ ٹھنڈا ہونے سے پہلے۔