Emotion
بیٹی نے فون پر بتایا کہ ایک پریشانی اس نے خود حل کر لی ہے، مجھے اس وقت خبر بھی نہ دی۔ پہلے خوشی ہوئی، پھر دل میں ایک چھوٹی سی کسک آئی جسے میں نے فوراً فکر کا نام دینا چاہا۔ سچ یہ ہے کہ فکر کی بات باقی ہی نہیں تھی؛ مجھے اپنے شامل نہ ہونے کا ملال تھا۔ یہ بات اسے کہنے کی ضرورت نہیں سمجھی، وہ اپنی کامیابی سنا رہی تھی۔ پوری بات سنی اور خوشی ظاہر کی، وہ خوشی جھوٹی نہیں تھی۔ بعد میں اہلیہ سے ذکر کیا تو وہ ہنسیں کہ اب بچوں کو ہر کام سے پہلے ہماری مجلس بھی بلانی ہوگی؟ ان کی بات پر ہنسا، مگر کسک کچھ دیر اور رہی۔
Body
آج پوتے کے ساتھ صحن میں بیٹھ کر مٹر چھیلے تو وقت کا اندازہ نہیں رہا۔ اٹھنے لگا تو دایاں گھٹنا سیدھا ہونے میں ذرا دیر لے رہا تھا، اس لیے کرسی کی پشت تھام کر پہلے پاؤں جما لیے۔ بچہ فوراً سہارا دینے آیا، میں نے اس کا ہاتھ لیا بھی، حالانکہ شاید خود اٹھ جاتا۔ تھوڑی دیر چلنے سے اکڑن کم ہوگئی۔ واپس آیا تو اہلیہ نے چائے رکھ دی تھی؛ پیالی دونوں ہاتھوں میں لے کر بیٹھنا اچھا لگا، گرمی ہتھیلیوں تک اترتی رہی۔ آنکھوں میں ہلکی نیند تھی اور انگلیوں پر مٹر کی بو۔ شام کے اتنے سے کام کے بعد آرام چاہیے تھا، مگر یہ تھکن مجھے بری نہیں لگی۔
Mind
پرانی ڈائری سے بچوں کے لیے صفحات چن رہا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کسی واقعے کو لکھ دینے سے وہ کتنا پکا معلوم ہونے لگتا ہے۔ ایک جگہ میں نے بیٹے کی خاموشی کو ناراضی سمجھ کر پورا صفحہ لکھا ہے، حالانکہ اب یاد آتا ہے کہ اس ہفتے اس کے امتحان تھے۔ ممکن ہے وہ صرف تھکا ہو۔ اپنی کیفیت تو درست لکھی ہوگی، اس کی کیفیت کا دعویٰ کیوں کیا؟ صفحہ نکالنے کے بجائے کنارے پر آج کی یہ بات لکھ دی ہے۔ باقی ڈائری بھی اسی احتیاط سے دیکھنی ہوگی۔ میں بچوں کو یادیں دینا چاہتا ہوں، ان کے بچپن پر اپنا آخری فیصلہ نہیں، اور ابھی چند صفحات ایسے ہیں جن کے بارے میں خود ان سے پوچھنا بہتر ہوگا۔