Player چلتاپرزہ
Body
شام کو چھت پر کبوتر دیکھنے گیا تو ہوا اچھی چل رہی تھی۔ نیچے دکان میں سارا دن قمیص پیٹھ سے لگی رہی، اوپر آ کر پسینہ سوکھا تو بدن ہلکا لگا۔ بیٹے نے دانے کی بالٹی پکڑا دی، میں نے کہا تمہارا شوق ہے، کام بھی تم کرو، مگر پھر خود ہی کھڑا دیکھتا رہا۔ ایک کبوتر ہاتھ پر آ بیٹھا، پنجوں کی گرفت اتنی ہلکی تھی کہ میں نے انگلیاں بھی نہ ہلائیں۔ گھٹنے تھوڑی دیر بعد یاد دلانے لگے کہ بیٹھنا بھی ہوتا ہے، تو دیوار کے پاس کرسی کھینچ لی۔ چائے اوپر آ گئی اور میں نے جوتے اتار دیے۔ آج جسم کو آرام کے لیے بستر نہیں، بس کھلی ہوا اور ذرا سی جگہ چاہیے تھی۔
Emotion
بڑے بیٹے نے دکان کے حساب میں میری ایک غلطی پکڑی۔ پہلے تو برا لگا، خاص کر اس نے ملازم کے سامنے بتایا، میں نے فوراً کہا دوبارہ دیکھو۔ اس نے آرام سے دونوں اندراج دکھا دیے اور واقعی ایک رقم دو بار لکھی ہوئی تھی۔ پھر خوشی بھی ہوئی کہ لڑکا دھیان سے کام کرتا ہے، مگر تعریف منہ سے نہ نکلی، بس ٹھیک ہے کہہ دیا۔ رات کھانے پر اس کی ماں کو بتایا تو بیٹا مسکرا رہا تھا، مجھے لگا سارا دن یہی سننے کا انتظار کیا ہوگا۔ ابو بھی تعریف کم کرتے تھے اور میں ایک ایک بات یاد رکھتا ہوں۔ پھر بھی جب میری باری آتی ہے تو ایسے چپ ہو جاتا ہوں جیسے تعریف سے دکان کا نقصان ہو جائے گا۔
Mind
ایک پرانا گاہک موبائل پر سستا ریٹ دکھا کر کہنے لگا آپ بھی یہی دے دیں۔ میں نے اسے فرق سمجھایا کہ اس تصویر سے پرزے کی حالت اور اصل کمپنی کا پتہ نہیں چلتا، مگر بعد میں خود بھی وہ اشتہار دیکھتا رہا۔ ہر سستی چیز خراب نہیں ہوتی، یہ بات ماننی پڑے گی، لیکن میں اپنا مال خرید کی قیمت سے نیچے کیسے دوں۔ سوچ رہا ہوں بیٹے سے کہوں ہمارے موجودہ اسٹاک کی صاف تصویریں بنا دے، کم از کم لوگ پوچھ تو سکیں کہ کیا دستیاب ہے۔ پھر خیال آتا ہے فون پر سارا دن جواب کون دے گا۔ پہلے چند عام پرزوں سے دیکھ لیتے ہیں، پوری دکان ایک ساتھ موبائل میں ڈالنے کا کوئی حکم تو نہیں آیا۔